عارفانہ کلام نعتیہ کلام
دلِ مضطر یہ کہتا ہے شہِ ابرارﷺ کو دیکھیں
نگاہوں کی تمنا ہے رُخِ سرکارﷺ کو دیکھیں
کبھی چل کر مدینے کے در و دیوار کو دیکھیں
نبیﷺ کی زندگی کے پُر فضا آثار کو دیکھیں
جہاں سائل کو لوٹایا نہیں جاتا کبھی خالی
چلو اب سرور عالمؐ کے اس دربار کو دیکھیں
ہم انؐ کے نام سے طوفان میں کشتی چلاتے ہیں
نظر ہے انؐ کی رحمت پر تو کیوں منجدھار کو دیکھیں
رموزِ عشق کو گر جاننا مقصود ہے صاحب
تو چل کر سیدِ ابرارﷺ کے بیمار کو دیکھیں
ادب ملحوظ رکھیں نعت کہنے میں بہت کاشف
کبھی الفاظ کو دیکھیں، کبھی افکار کو دیکھیں
کاشف بریلوی
عدنان علی
No comments:
Post a Comment