Tuesday, 9 August 2022

نعت حضرت کا زبانوں پر سخن رہ جائے گا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


کوئی گل باقی رہے گا نَے چمن رہ جائے گا

پر رسول اللہﷺ کا دِینِ حسن رہ جائے گا

نامِ شاہانِ جہاں مٹ جائیں گے لیکن یہاں

حشر تک نام و نشانِ پنجتنؑ رہ جائے گا

ہم صفیرو! باغ میں ہے کوئی دَم کا چہچہا

بلبلیں اُڑ جائیں گی، سُونا چمن رہ جائے گا

اطلس و کمخواب کی پوشاک پر نازاں نہ ہو

اس تنِ بے جان پر خاکی کفن رہ جائے گا

جو پڑھے گا صاحبِ لولاکؐ کے اوپر درود

آگ سے محفوظ اس کا تن بدن رہ جائے گا

سب فنا ہو جائیں گے کافی! ولیکن حشر تک

نعتِ حضرتؐ کا زبانوں پر سخن رہ جائے گا


کافی مرادآبادی

کفایت علی کافی

No comments:

Post a Comment