Thursday, 8 September 2022

یا محمد آپ کی کچھ ایسی یاد آئی کہ بس

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


یا محمدؐ! آپﷺ کی کچھ ایسی یاد آئی کہ بس

میری روحِ مضطرب نے وہ خوشی پائی کہ بس

گونج اٹھا جب فضا میں نغمۂ صلِّ علی

رحمتوں کی ہر طرف ایسی گھٹا چھائی کہ بس

فرش پر مخلوق ساری سوچتی ہی رہ گئی

عرش پر ان کی ہوئی ایسی پذیرائی کہ بس

دے نہ پایا منزلِ مقصود کوئی راہبر

سرورِ کونینؐ نے وہ راہ دکھلائی کہ بس

سُوئے طیبہ جا رہے تھے عاشقوں کے قافلے

دیکھ کر ان کو طبیعت ایسے للچائی کہ بس

چلتے پھرتے بیٹھتے اٹھتے زبانوں پر درود

اُمتی اس قدر ہیں آقاﷺ کے شیدائی کہ بس

نعت ہونٹوں پر نظر میں روضۂ خیر الوریٰؐ

خلوتوں میں شب کی ہے وہ بزم آرائی کہ بس

دامنِ رحمت شفیع المذنبیںﷺ کا ہو نصیب

ورنہ روزِ حشر ہو گی ایسی رسوائی کہ بس

کوہِ فاراں سے چلی جس دم نسیمِ لا الٰہ

گلشنِ ہستی میں شاہیں وہ بہار آئی کہ بس


عبدالعلیم شاہین

No comments:

Post a Comment