Thursday, 8 September 2022

مجھ کو دنیا کی ثباتی کا اشارہ نہ ملا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


مجھ کو دنیا کی ثباتی کا اشارہ نہ ملا

آپؐ ہیں جن کے وسیلے سے خسارہ نہ ملا

میں نے ڈھونڈی ہیں بہت آپؐ کی رحمت کی حدیں

کسی جانب بھی مجھے کوئی کنارہ نہ ملا

انؐ پہ سو بار ہیں قربان یہ سانسیں میری

رنج اس پر ہے کہ کوئی بھی اشارہ نہ ملا

آپؐ کی ذات سے پائی ہے ستاروں نے ضیا

کون ہے جس کو ہدایت کا مینارہ نہ ملا

تم بھی قاٸم ہو محمدﷺ کے وسیلے سے نمل

پھر یہ شکوہ ہے بھلا کیوں کہ سہارہ نہ ملا


نمل بلوچ

No comments:

Post a Comment