Saturday, 6 January 2024

وہ ابر رحمت وہ ماہ کامل ازل سے وہ نور ہیں سحر کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


وہ ابرِ رحمت وہ ماہِ کامل ازل سے وہ نُور ہیں سحر کا

محبتوں کے عظیم پیکر، وہی اُجالا ہیں اپنے گھر کا

امین ایسا، حبیب ایسا، ہُوا جو مہماں خُدا کے گھر کا

خُدا نے خُود اپنی رحمتوں کو لباس پہنا دیا بشر کا

ہماری منزل، ہمارا رہبر، ہماری کشتی، ہمارا ساحل

وہی مسافت، وہی مسافر، وہ حرفِ آخر ہے اس سفر کا

خُدا کو مسرُور کرنے والا، دلوں کو پُر نُور کرنے والا

سیاہ قلبوں کو روشنی دی، یہی تو فیضان ہے نظر کا

نہ اُنؐ کے جیسا حبیب کوئی، نہ اُنؐ کے جیسا رفیق کوئی

جہاں میں جینے کا طور دے کر ادب سِکھایا خُدا کے گھر کا

میں غم کی راہوں میں کھو گئی ہوں، کبھی مجھے بھی پُکار لیجے

بکھرنے والوں کو میرے آقاﷺ بڑا سہارہ ہے اک نظر کا

وہ نام چہرے پہ کوئی لکھ دے متاعِ جاں میری کچھ نہیں ہے

یہ میرے آنسو قبول کیجے، میں ایک ذرہ ہو رہگزر کا

حضورؐ دل کے ہر ایک ذرے پہ نام کب سے لکھا ہُوا ہے

مِری محبت کی لاج رکھیے، یہی سہارہ ہے بے ہُنر کا


نسیم مخموری

No comments:

Post a Comment