Tuesday, 8 September 2020

اس طرح گردن پہ خنجر کو لگاتے جائیے

اس طرح گردن پہ خنجر کو لگاتے جائیے 
خوں سے آلودہ نہ ہو دامن بچاتے جائیے 
حسن زیبا لاکھ نظروں سے بچاتے جائیے 
اور کھُلتا جائے گا، جتنا چھپاتے جائیے 
بات اچھی آپ نے سیکھی ہے خوش ہو گا رقیب 
وعدے کرتے جائیے، سوگند کھاتے جائیے 
کوچۂ جاناں میں آدابِ وفا بھی چاہیے 
گردن تسلیم خم ہو، سر جھکاتے جائیے 
شاہدان باغ کی نازش مٹا دو حسن کے 
کچھ تماشائے قد و گیسو دکھاتے جائیے 
آپ کا ارشاد ناصح ہم کو ہے دل سے پسند 
درد دل کی بھی دوا لیکن بتاتے جائیے 
غیر کے سو ناز تم پر اور مجھ پر آپ کے 
آپ دبتے جائیے، مجھ کو دباتے جائیے 
کعبہ و بت خانہ واعظ ہیں نشان دیں فریب 
دیکھیں ہمت آپ کی، ان کو مٹاتے جائیے 
غیر کے گھر میں بھی راقم آج تم ہوتے چلو 
ایک چھچھوندر چھوڑ کر کچھ گل کھلاتے جائیے

راقم دہلوی

No comments:

Post a Comment