Friday, 11 September 2020

غضب ہے ادا چشم جادو اثر میں

غضب ہے ادا چشم جادو اثر میں
کہ دل پس گیا بس نظر ہی نظر میں
شب وعدہ ساتھ ان کو لائیں گے گھر میں
ہم آنکھیں بجھاتے ہوئے رہ گزر میں
مریں بھی تو جا کر اسی سر زمیں پر
ملیں خاک میں تو اسی رہ گزر میں
مِرے قتل کو آئے اس سادگی سے
چھری ہاتھ میں ہے نہ خنجر کمر میں
بھلایا غم دل نے شوق تماشا
کہ اب آنکھیں کھلتی ہے دو دوپہر میں
گراں بار جتنے ہوئے ہم جفا سے
سبک ہی رہے اتنے اس کی نظر میں
کسی کو وہ ماریں کسی کو جلائیں
خدائی سی کرنے لگے اب تو گھر میں
موئے پر بھی کچھ چین پایا نہ ہم نے
رہی جان اٹکی اسی عشوہ گر میں
تھکے ہم تو بس التجا کرتے کرتے
کٹی عمر سن سن کے شام و سحر میں
نمک بھی چھڑک رکھو پیکاں پہ تھوڑا
کہ لذت بڑھے اور زخم جگر میں
ہم ایسے ہوئے دیکھ کر محو حیرت
خبر ہی نہیں کون آیا ہے گھر میں
غم دل نشانی ہے فرقت کی راقم
اسے رکھ چلو ان کی دیوار و در میں

راقم دہلوی

No comments:

Post a Comment