دلوں پہ چوٹ پڑے تو فغاں ضروری ہے
وہاں تو بولو رفیقو، جہاں ضروری ہے
امیرِ وقت! ہمیں مدح خوانی مت سِکھلا
ہمیں خبر ہے، یہ کب اور کہاں ضروری ہے
ہوا بھی قوتِ بازو کا ساتھ دیتی ہے
شکستِ شب کے لیے چشمِ وا نہیں کافی
جگاۓ رکھنے کو دردِ نہاں ضروری ہے
تِرا خیال، تِری یاد، تیرا غم، کچھ ہو
کڑی ہے دھوپ، کوئی سائباں ضروری ہے
کسی کا قرب میسر ہوا تو مجھ پہ کُھلا
کہ ہر زمیں کے لیے آسماں ضروری ہے
اقبال پیرزادہ
No comments:
Post a Comment