ہاتھ میں جیسے بزرگوں کے چھڑی سجتی ہے
میری تنہائی، مِرے ساتھ کھڑی سجتی ہے
میں پیادہ ہوں مِری رائے نہ پوچھی جائے
شاہزادی سے کہو ضد پہ اڑی سجتی ہے
بڑھ کے تھاما تو سہارے پہ یقیں آیا اسے
وہ جو کہتا تھا کلائی پہ گھڑی سجتی ہے
جھوٹ کہتا ہے یہ آئینہ تِرے بارے میں
میری آنکھوں سے کبھی دیکھ، بڑی سجتی ہے
ہم غریبوں پہ بڑا ظلم کیا ہے اس نے
یہ محبت کسی کونے میں پڑی سجتی ہے
کامران اسیر
No comments:
Post a Comment