دل میرا چرا کر وہ، کیوں آنکھ چرا بیٹھے
اب ہوش ہمیں آیا ،جب ہوش گنوا بیٹھے
سودا ہے بہت اچھا، قیمت ہے بہت سستی
ہم اک بُتِ کافر پر، ایمان لُٹا بیٹھے
معلوم نہ تھا وہ بھی، نکلے گا رقیب اپنا
کیا پوچھنے آئے ہو؟مرقد میں فرشتوں تم
کل سجدہ کیا ہم کو،اور آج بھلا بیٹھے
اس شوخ کی محفل میں، تب جا کے جگہ پائی
جب بزمِ دو عالم سے، ہم ہاتھ اٹھا بیٹھے
ہم ایسے خدا کے تو، قائل نہیں اے واعظ
بندوں سے الگ ہو کر، جو عرش پہ جا بیٹھے
میں ہجر اسے سمجھوں، یا وصل کہوں ساجد
نظروں سے جو بچتے تھے،وہ دل میں سما بیٹھے
ساجد مہروی
No comments:
Post a Comment