Tuesday, 18 August 2020

دل میرا چرا کر وہ کیوں آنکھ چرا بیٹھے

دل میرا چرا کر وہ، کیوں آنکھ چرا بیٹھے
اب ہوش ہمیں آیا ،جب ہوش گنوا بیٹھے
سودا ہے بہت اچھا، قیمت ہے بہت سستی
ہم اک بُتِ کافر پر، ایمان لُٹا بیٹھے
معلوم نہ تھا وہ بھی، نکلے گا رقیب اپنا
ناصح کو تیری ایک دن تصویر دکھا بیٹھے
کیا پوچھنے آئے ہو؟مرقد میں فرشتوں تم
کل سجدہ کیا ہم کو،اور آج بھلا بیٹھے
اس شوخ کی محفل میں، تب جا کے جگہ پائی
جب بزمِ دو عالم سے، ہم ہاتھ اٹھا بیٹھے
ہم ایسے خدا کے تو، قائل نہیں اے واعظ
بندوں سے الگ ہو کر، جو عرش پہ جا بیٹھے
میں ہجر اسے سمجھوں، یا وصل کہوں ساجد
نظروں سے جو بچتے تھے،وہ دل میں سما بیٹھے

ساجد مہروی 

No comments:

Post a Comment