Tuesday, 18 August 2020

گاؤں کے اجڑے ہوئے مدفن میں پونم کا طلسم

تریاق

گاؤں کے اجڑے ہوئے مدفن میں پونم کا طلسم
آج کی تہذیب کے ہر زہر کا تریاق ہے
شہر والوں کے تبسم کی ریاکاری سے دور
محفلوں کی کھوکھلی سنجیدہ گفتاری سے دور
الجھے الجھے سے دلائل کی گرانباری سے دور
محفلیں لوحِ تکلف کی وہی پٹتی لکیر
اپنی اپنی چار دیواری کے زنداں میں اسیر
کیا کرے وہ جس کے دل میں وسعتِ آفاق ہے
آ سحر تک اس دبستانِ حقیقت میں پڑھیں
موت کے بوڑھے معلم سے کتابِ زندگی

خورشید رضوی

No comments:

Post a Comment