اب سے پہلے وہ مِری ذات پہ طاری تو نہ تھا
دل میں رہتا تھا مگر خون میں جاری تو نہ تھا
نبض چلتی ہے تو قدموں کی صدا آتی ہے
اس قدر زخمِ جدائی کبھی کاری تو نہ تھا
وہ تو بادل کا برسنا ہے عناصر کا اصول
دل میں کھلتے ہیں تری یاد کے اعجاز کے پھول
اس میں کچھ شائبۂ بادِ بہار تو نہ تھا
یہ بھی اندر کا کوئی روگ ہے ورنہ ہم کو
عمر بھر حوصلۂ نالہ و زاری تو نہ تھا
خورشید رضوی
No comments:
Post a Comment