ذرے سے مہر، قطرے سے دریا بنا دیا
تیرے کرم نے کیا سے مجھے کیا بنا دیا
گر جان دی تجھے تو، یہ تیری ہی تھی عطا
شرمندگی تو یہ ہے تجھے میں نے کیا دیا
تُو نے کِیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیں
اس باخدا کے ہاتھ میں، میں نے دئیے ہیں ہاتھ
نظریں ملا کے جس نے خدا کو دیکھا دیا
افشاں اگر کروں تو سرِ دار میں چڑھوں
وہ راز میرے یار نے مجھ کو بتا دیا
ساجد! تمام عمر رہی بے خودی ہمیں
ایسا کسی نے جام 🍷نظر سے پلا دیا
ساجد مہروی
No comments:
Post a Comment