Sunday, 16 August 2020

فیض ملتا نہیں حق سے کبھی نسبت کے بغیر

فیض ملتا نہیں حق سے کبھی نسبت کے بغیر
بات بنتی نہیں مرشد سے عقیدت کے بغیر
کوئی کتنا ہی کرے فیض نظر کا دعویٰ
نامکمل ہے مگر شیخ کی صحبت کے بغیر
زاہداں زہد سے حق تک ہے پہنچنا مشکل
راستہ طے نہیں ہوتا یہ محبت کے بغیر
کفر کافر کو ہو اور زُہد ہو زاہد کو نصیب
مجھ کو ہو کچھ نہ عطا درد کی دولت کے بغیر
میرے رنگریز! میں صدقے تیرے جاؤں تجھ پر
رنگ کوئی نہ چڑھا اک تیری رنگت کے بغیر
زہد و تقوی ہو یا ہو مستی ساجد
اب تو میں کچھ نہیں ان کی عنایت کے بغیر

ساجد مہروی 

No comments:

Post a Comment