فیض ملتا نہیں حق سے کبھی نسبت کے بغیر
بات بنتی نہیں مرشد سے عقیدت کے بغیر
کوئی کتنا ہی کرے فیض نظر کا دعویٰ
نامکمل ہے مگر شیخ کی صحبت کے بغیر
زاہداں زہد سے حق تک ہے پہنچنا مشکل
کفر کافر کو ہو اور زُہد ہو زاہد کو نصیب
مجھ کو ہو کچھ نہ عطا درد کی دولت کے بغیر
میرے رنگریز! میں صدقے تیرے جاؤں تجھ پر
رنگ کوئی نہ چڑھا اک تیری رنگت کے بغیر
زہد و تقوی ہو یا ہو مستی ساجد
اب تو میں کچھ نہیں ان کی عنایت کے بغیر
ساجد مہروی
No comments:
Post a Comment