جو رخ پہ خاک مَلی تیرے آستانے کی
رہی نہ تاب جہاں کو نظر ملانے کی
اٹھائیں آپ جو زحمت یہاں پہ آنے کی
زمین عرش ہو میرے غریب خانے کی
یہ کس کی مدھ بھری نظروں نے جام چھلکائے
میری رہائی کا صیاد نے جو حکم دیا
بلند ہو گئی دیوار⧚⧚⧚ قید خانے کی
کفن سے اس لیے نکلے ہوئے تھے ہاتھ میرے
کہ، رہ گئی تجھے حسرت گلے لگانے کی
درِِ حبیب نے بخشی وہ بے خودی ساجد
رہی نہ ہوش کہیں اور سر جھکانے کی
ساجد مہروی
No comments:
Post a Comment