چپ نہ رہو
شب کی تاریکی میں اک اور ستارہ ٹوٹا
طوق توڑے گئے، ٹوٹی زنجیر
جگمگانے لگا ترشے ہوئے ہیرے کی طرح
آدمیت کا ضمیر
شب کے سناٹے میں پھر خون کے دریا چمکے
صبحدم جب مِرے دروازے سے گزری ہے صبا
اپنے چہرے پہ ملے خونِ سحر گزری ہے
خیر ہو مجلسِ اقوام کی سلطانی کی
خیر ہو حق کی، صداقت کی، جہاں بانی کی
اور اونچی ہوئی صحرا میں امیدوں کی صلیب
اور اک قطرۂ خوں چشمِ سحر سے ٹپکا
جب تلک دہر میں قاتل کا نشاں باقی ہے
تم مٹاتے ہی چلے جاؤ نشاں قاتل کے
روز ہو جشنِ شہیدانِ وفا چپ نہ رہو
بار بار آتی ہے مقتل سے صدا، چپ نہ رہو
چپ نہ رہو
مخدوم محی الدین
No comments:
Post a Comment