Sunday, 16 August 2020

شب کی تاریکی میں اک اور ستارہ ٹوٹا

چپ نہ رہو 

شب کی تاریکی میں اک اور ستارہ ٹوٹا
طوق توڑے گئے، ٹوٹی زنجیر
جگمگانے لگا ترشے ہوئے ہیرے کی طرح
آدمیت کا ضمیر
پھر اندھیرے میں کسی ہاتھ میں خنجر چمکا
شب کے سناٹے میں پھر خون کے دریا چمکے
صبحدم جب مِرے دروازے سے گزری ہے صبا
اپنے چہرے پہ ملے خونِ سحر گزری ہے
خیر ہو مجلسِ اقوام کی سلطانی کی
خیر ہو حق کی، صداقت کی، جہاں بانی کی
اور اونچی ہوئی صحرا میں امیدوں کی صلیب
اور اک قطرۂ خوں چشمِ سحر سے ٹپکا
جب تلک دہر میں قاتل کا نشاں باقی ہے
تم مٹاتے ہی چلے جاؤ نشاں قاتل کے
روز ہو جشنِ شہیدانِ وفا چپ نہ رہو
بار بار آتی ہے مقتل سے صدا، چپ نہ رہو
چپ نہ رہو

مخدوم محی الدین

No comments:

Post a Comment