تنگ آ کر ہی یہی فیصلہ کرنا ہو گا
زندہ رہنے کیلئے مجھ کو ہی مرنا ہو گا
ہر ستارہ☆ ہے میاں! نقشِ وجوہِ ہستی
گر چمکنا ہے تو مٹی میں بکھرنا ہو گا
دائیں بائیں ہیں تِرے رنگ بدلتے آسیب
جلد بازی سے کئی کام بگڑ جاتے ہیں
دل سے پہلے تمہیں آنکھوں میں ٹہرنا ہو گا
وہ چلا جاۓ گا ہلکے سے تبسم کے ساتھ
پِھر یہ تاوانِ گماں مجھ کو ہی بھرنا ہو گا
اے عروسِ شبِ غم! میری رِفاقت کی قسم
میری خاطر تجھے ہر شام سنورنا ہو گا
دینا پڑ جاۓ گا ناکردہ گناہوں کا حساب
میرے پیاروں پہ کوئی ظلم وگرنہ ہو گا
پردۂ غیب سے بڑھتا ہوا کہرامِ نفوس
اب خدا کو بھی کوئی فیصلہ کرنا ہو گا
سلمان اطہر
No comments:
Post a Comment