بات یہ ہے کہ بات کوئی نہیں
مدعائے حیات کوئی نہیں
آدمی جانور سے بد تر ہے
اشرف المخلوقات کوئی نہیں
خوابِ گمنام کے ہیولے ہیں
ساتویں آسمان پر ہیں مزاج
جن کی اپنی بساط کوئی نہیں
کیا سمجھتے ہو جو ملی ہم کو
مفت میں کائنات کوئی نہیں
قیدِ ہستی ہے دونوں صورتوں میں
اور راہِ نجات کوئی نہیں
ایک مقتل کدہ بنی دنیا
گوشۂ احتیاط کوئی نہیں
سلمان اطہر
No comments:
Post a Comment