Sunday, 16 August 2020

بات یہ ہے کہ بات کوئی نہیں

بات یہ ہے کہ بات کوئی نہیں
مدعائے حیات کوئی نہیں
آدمی جانور سے بد تر ہے
اشرف المخلوقات کوئی نہیں
خوابِ گمنام کے ہیولے ہیں
تیری میری یہ ذات کوئی نہیں
ساتویں آسمان پر ہیں مزاج
جن کی اپنی بساط کوئی نہیں
کیا سمجھتے ہو جو ملی ہم کو
مفت میں کائنات کوئی نہیں
قیدِ ہستی ہے دونوں صورتوں میں
اور راہِ نجات کوئی نہیں
ایک مقتل کدہ بنی دنیا
گوشۂ احتیاط کوئی نہیں

سلمان اطہر

No comments:

Post a Comment