Sunday, 16 August 2020

دیکھتا ہوں یہ تجرِبہ کر کے

دیکھتا ہوں یہ تجرِبہ کر کے
روح کو جسم سے جدا کر کے
تھک گئی ہے زمین کی گردِش
اپنے محور پہ اکتفا کر کے
گو خلافِ مزاج تھا، لیکن
زندگی سے نبھی وفا کر کے
عشق نے پھر پرانی چال چلی
ہمیں وحشت سے آشنا کر کے
عاشقی کا ہو اختتام بخیر
پھنس گیا ہوں میں ابتدا کر کے
راگ اپنا الاپتے ہیں سبھی
کیا ملے گا ہمیں صدا کر کے
دل کی مانوں کہ اس زمانے کی؟
کچھ تو کرنا ہے حوصلہ کر کے
الغرض یوں ہی خوش رہیں اطہر
شکر اللہ کا ادا کر کے

سلمان اطہر

No comments:

Post a Comment