مجھ کو تِرے خیال سے وحشت کبھی نہ تھی
اس درجہ بے ادب یہ طبیعت کبھی نہ تھی
حد ہے اسی کے پاس ہے کردار کی سند
جس کی تمام شہر میں عزت کبھی نہ تھی
یارو! دعا کرو یہ کوئی حادثہ نہ ہو
یا تو جفائیں آپ کی حد سے گزر گئیں
یا پھر مجھے سزاؤں کی عادت کبھی نہ تھی
جاذب غمِ حیات کی تلخی زباں پہ ہے
ورنہ ہمیں جہاں سے شکایت کبھی نہ تھی
شکیل جاذب
No comments:
Post a Comment