تیر نظروں میں، تو ابرو میں کماں ڈھونڈتا ہوں
اس کی آنکھوں میں گئی رُت کے نشاں ڈھونڈتا ہوں
نشۂ قرب سے بڑھ کر ہے تِری کھوج مجھے
تُو جہاں مل نہ سکے تجھ کو وہاں ڈھونڈتا ہوں
تازی وارد ہوں میاں اور یہ شہرِ دل ہے
شک کی بے سمت مسافت ہی مجھے مار نہ دے
جو یقیں مجھ کو دِلا دے وہ گماں ڈھونڈتا ہوں
اپنے اندر مجھے کربل کا سماں لگتا ہے
سر بلندی کے لیے نوکِ سناں ڈھونڈتا ہوں
شکیل جاذب
No comments:
Post a Comment