Sunday, 16 August 2020

ممکن ہے شب ہجر دعا کا نہ اثر ہو

ممکن ہے شبِ ہجر🌑 دعا کا نہ اثر ہو
ہے رات وہ کیا رات کہ جس کی نہ سحر ہو
ٹھکرا کے چلے جانا ہے برحق تمہیں لیکن
بس رکھنا خیال اتنا، جہاں کو نہ خبر ہو
وہ شب جو ستاروں سے بھری ہو تو ہمیں کیا
پہلو میں اگر تیرے مِری شب نہ بسر ہو
گرجا ہے بڑے زور سے بادل ذرا دیکھو
بجلی سے گری جس پہ کہیں میرا نہ گھر ہو
جیون ہے سفر جوش یہ تسلیم ہے، لیکن
محبوب کا ہو ساتھ تو کیا خوب سفر ہو

اے جی جوش

No comments:

Post a Comment