Sunday, 16 August 2020

نہ سوچنا کہ زمانے سے ڈر گئے ہم بھی

نہ سوچنا کہ زمانے سے ڈر گئے ہم بھی
تری تلاش میں غیروں کے گھر گئے ہم بھی
چرا لیں ہم سے بھی اس خود پرست نے آنکھیں
دلِ حبیب سے آخر اگر گئے ہم بھی
پسیجا دل نہ کسی کا ہمارے اشکوں سے
ہر آستاں پہ لیے چشمِ تر گئے ہم بھی
جو دیکھا کلیوں کو تجھ پر نثار ہوتے ہوئے
تو رنگ بن کے فضا میں بکھر گئے ہم بھی
جب اس کی ذوقِ نظر کا ہوا بہت چرچا
وفورِ شوق سے ایک دن سنور گئے ہم بھی
بہت سے عشق کی راہوں میں پُل صراط آئے
تمہارا نام لیا،۔ اور گزر گئے ہم بھی
محال تھا کہ ہم اے جوش زندہ رہ سکتے
فراقِ یار میں اک روز مر گئے ہم بھی

اے جی جوش

No comments:

Post a Comment