Tuesday, 18 August 2020

دل کے لگنے کو دل لگی سمجھے

دل کے لگنے کو دل لگی سمجھے
رو دئیے ہم تو وہ ہنسی سمجھے
ایسے رہبر سے راہزن اچھا
جو اندھیرے کو روشنی سمجھے
اس کو کیا واسطہ مسرت سے
تیرے غم کو جو زندگی سمجھے
بے وفا سے وفا کی ہے امید
کون میری یہ سادگی سمجھے
ہجر میں موت تک بھی آ نہ سکی
یہ بھی ہم تیری بے رخی سمجھے
جام و بادہ اٹھائے پھر کوئی
پہلے آدابِ مے کشی سمجھے
ایک کافر کے در پہ ساجد ہوں
کیا کوئی میری بندگی سمجھے

ساجد مہروی

No comments:

Post a Comment