دل کے لگنے کو دل لگی سمجھے
رو دئیے ہم تو وہ ہنسی سمجھے
ایسے رہبر سے راہزن اچھا
جو اندھیرے کو روشنی سمجھے
اس کو کیا واسطہ مسرت سے
بے وفا سے وفا کی ہے امید
کون میری یہ سادگی سمجھے
ہجر میں موت تک بھی آ نہ سکی
یہ بھی ہم تیری بے رخی سمجھے
جام و بادہ اٹھائے پھر کوئی
پہلے آدابِ مے کشی سمجھے
ایک کافر کے در پہ ساجد ہوں
کیا کوئی میری بندگی سمجھے
ساجد مہروی
No comments:
Post a Comment