پیرہن تار تار کرتے ہیں
اہتمام بہار کرتے ہیں
پہلے پہلے وہ پیار کرتے ہیں
بعد میں بے قرار کرتے ہیں
ہم نہیں جانتے قضا کیا ہے
جھانکتے کیا ہو آنکھ سے اشکو
لوگ باتیں ہزار کرتے ہیں
کتنے سادہ مزاج ہیں ہم بھی
آپ کا انتظار کرتے ہیں
کر کے گھائل وہ میرا دل بولے
یوں شکاری شکار کرتے ہیں
ہم تمہیں چاہتے ہیں، چاہیں گے
یہ گناہ بار بار کرتے ہیں
حسن والوں کو دیکھ کر ساجد
شکرِ پروردگار کرتے ہیں
ساجد مہروی
No comments:
Post a Comment