جتنا ہمارے دل کو تمہارا ہے غم پسند
ہو گا کسی کو کوئی زمانے میں کم پسند
دنیائے بت کدہ،۔ نہ فضائے حرم پسند
تیری گلی ہے مجھ کو خدا کی قسم پسند
میری تو کائنات فقط تیرے دم سے ہے
جو بات تجھ میں ہے وہ کسی اور میں کہاں
تیرے سوا نہیں کوئی تیری قسم! پسند
دیر و حرم کی عظمتیں تسلیم ہیں، مگر
میری جبیں کو ہے، تیرا نقشِ قدم پسند
اس حسنِ انتخاب کے قربان جائیے
تیرِ نگاہِ ناز کو آئے ہیں ہم پسند
تھے بت بہت سے بتکدۂ کائنات میں
آیا دل و نظر کو مگر اک صنم پسند
واعظ! بتا کہ اس میں بگڑتا ہے تیرا کیا
کر لے میری خطائیں جو اس کا کرم پسند
موتی ہیں چند کشتئ ارمان دید میں
کیجے قبول، ہو جو میری چشمِ نم پسند
یارب ہو، خاکِ کوچۂ جاناں مجھے نصیب
تختِ شہی عزیز،۔ نہ جاہ و حشم پسند
ہر حال میں عزیز ہے ساجد رضائے دوست
ارض و سما قبول،۔ نہ لوح و قلم پسند
ساجد مہروی
No comments:
Post a Comment