سامنے ہوتے تھے پہلے جس قدر ہوتے تھے ہم
جب یہ نظارے نہیں تھے تب نظر ہوتے تھے ہم
💘تب نیا مٹی سے اٹھا تھا محبت کا خمیر💘
ہر کسی کوزے میں دو اک گھونٹ بھر ہوتے تھے ہم
جس پری پر مر مٹے تھے، وہ پری زادی نہ تھی
سامنے آتے تھے جب تو ڈھونڈتے تھے کشتیاں
چار آنکھوں سے بنی اک جھیل پر ہوتے تھے ہم
اک گھڑی ایسی بھی آتی تھی ملاقاتوں کے بیچ
تم اُدھر ہوتے تھے جسکے اور ادھر ہوتے تھے ہم
فیضان ہاشمی
No comments:
Post a Comment