Sunday, 10 January 2021

دشت بخشا ہے تو پھر پیاس کی وحشت دی جائے

 دشت بخشا ہے تو پھر پیاس کی وحشت دی جائے

آنکھ دی ہے تو مجھے اشک کی حسرت دی جائے

ضبط دیواروں سے بھر بھر کے گرا جاتا ہے

گھر کی ہر چیز کو رونے کی اجازت دی جائے

میرے ہاتھوں میں اگر خواب کی ریکھائیں ہیں

مجھ کو خیرات میں آنکھوں کی بشارت دی جائے

اپنی مرضی سے کہیں ٹک کے سکونت کر لے

دشت کی ریت کو اتنی تو رعایت دی جائے

جب بھی ہم چاہیں جدھر چاہیں اتر سکتے ہیں

وقت کی ریل میں اتنی تو سہولت دی جائے

تم مجھے عشق میں مرنے کی دعا دیتے ہو

اس سے بہتر ہے مجھے اور محبت دی جائے

زندگی! جسم کا در کھول کہ میں چاہتا ہوں

اب مجھے تجھ سے بچھڑنے کی اجازت دی جائے


منیر جعفری

No comments:

Post a Comment