دشت بخشا ہے تو پھر پیاس کی وحشت دی جائے
آنکھ دی ہے تو مجھے اشک کی حسرت دی جائے
ضبط دیواروں سے بھر بھر کے گرا جاتا ہے
گھر کی ہر چیز کو رونے کی اجازت دی جائے
میرے ہاتھوں میں اگر خواب کی ریکھائیں ہیں
مجھ کو خیرات میں آنکھوں کی بشارت دی جائے
اپنی مرضی سے کہیں ٹک کے سکونت کر لے
دشت کی ریت کو اتنی تو رعایت دی جائے
جب بھی ہم چاہیں جدھر چاہیں اتر سکتے ہیں
وقت کی ریل میں اتنی تو سہولت دی جائے
تم مجھے عشق میں مرنے کی دعا دیتے ہو
اس سے بہتر ہے مجھے اور محبت دی جائے
زندگی! جسم کا در کھول کہ میں چاہتا ہوں
اب مجھے تجھ سے بچھڑنے کی اجازت دی جائے
منیر جعفری
No comments:
Post a Comment