Monday, 4 April 2022

آنکھوں سے نیند جھاڑئیے ساماں اٹھائیے

 آنکھوں سے نیند جھاڑئیے ساماں اٹھائیے

اگلے سفر پہ خواب کے پیماں اٹھائیے

پھر اس کے بعد مل کے چراغوں کو آگ دیں

پہلے ہوا کے لمس کے ارماں اٹھائیے

جب تک یہ تارکولی سڑک جاگتی رہے

تب تک اکیلے بنچ کے احساں اٹھائیے

مشکل ہے راستے میں گرے ملبۂ وجود

پہلے قدم کے بوجھ کو آساں اٹھائیے

آنکھوں کو پھینک دیجیے منظر کی گود میں

اس کی گلی سے دید کے امکاں اٹھائیے

دریا کے ہاتھ کھل گئے تو گر پڑیں گے ہم

کشتی کا بوجھ بانٹیے،۔ ساماں اٹھائیے

منظر کو اگلی آنکھ تلک بھی رسائی ہو

سو کیمرے سے دیدۂ حیراں اٹھائیے


منیر جعفری

No comments:

Post a Comment