آنکھوں سے نیند جھاڑئیے ساماں اٹھائیے
اگلے سفر پہ خواب کے پیماں اٹھائیے
پھر اس کے بعد مل کے چراغوں کو آگ دیں
پہلے ہوا کے لمس کے ارماں اٹھائیے
جب تک یہ تارکولی سڑک جاگتی رہے
تب تک اکیلے بنچ کے احساں اٹھائیے
مشکل ہے راستے میں گرے ملبۂ وجود
پہلے قدم کے بوجھ کو آساں اٹھائیے
آنکھوں کو پھینک دیجیے منظر کی گود میں
اس کی گلی سے دید کے امکاں اٹھائیے
دریا کے ہاتھ کھل گئے تو گر پڑیں گے ہم
کشتی کا بوجھ بانٹیے،۔ ساماں اٹھائیے
منظر کو اگلی آنکھ تلک بھی رسائی ہو
سو کیمرے سے دیدۂ حیراں اٹھائیے
منیر جعفری
No comments:
Post a Comment