Monday, 4 April 2022

جی چاہتا ہے شب کی پناہوں میں آؤں میں

 جی چاہتا ہے شب کی پناہوں میں آؤں میں

کب تنگ فریب صبح کے نغمے سناؤں میں

وہ تیرا عشق ہے  کہ ہیں صحرا کی وسعتیں

دریا کو کیسے کوزۂ جاں میں چھپاؤں میں

ہر اک قدم ہے حلقۂ آلامِ روزگار

ہر اک قدم پہ خود کو گرفتار پاؤں میں

اک دور ابتلا سے گزرنے کے بعد بھی

ممکن نہیں ہوا کہ تجھے بھول پاؤں میں

لمحوں کی دھوپ چھاؤں نے صورت بگاڑ دی

اب اپنے آپ کو بھی نہ پہچان پاؤں میں

گو نفرتوں کے جال بچھے ہیں ہر ایک سمت

لیکن محبتوں کی گھٹا بن کے چھاؤں میں

اوراق جاں سمیٹنا آساں نہیں تو پھر

کیسے بتاؤ؟َ قصۂ رفتہ سناؤں میں


ثریا حیا

No comments:

Post a Comment