جی چاہتا ہے شب کی پناہوں میں آؤں میں
کب تنگ فریب صبح کے نغمے سناؤں میں
وہ تیرا عشق ہے کہ ہیں صحرا کی وسعتیں
دریا کو کیسے کوزۂ جاں میں چھپاؤں میں
ہر اک قدم ہے حلقۂ آلامِ روزگار
ہر اک قدم پہ خود کو گرفتار پاؤں میں
اک دور ابتلا سے گزرنے کے بعد بھی
ممکن نہیں ہوا کہ تجھے بھول پاؤں میں
لمحوں کی دھوپ چھاؤں نے صورت بگاڑ دی
اب اپنے آپ کو بھی نہ پہچان پاؤں میں
گو نفرتوں کے جال بچھے ہیں ہر ایک سمت
لیکن محبتوں کی گھٹا بن کے چھاؤں میں
اوراق جاں سمیٹنا آساں نہیں تو پھر
کیسے بتاؤ؟َ قصۂ رفتہ سناؤں میں
ثریا حیا
No comments:
Post a Comment