Saturday, 10 April 2021

اس نے جب ڈوبتے سورج کا اشارا دیا تھا

 اس نے جب ڈوبتے سورج کا اشارا دیا تھا

میں نے اک دن کی تسلی کو سہارا دیا تھا

میری تہذیب کا معیار وراثت نہیں ہے

مجھ کو اجداد نے ورثے میں خسارا دیا تھا

کتنی آنکھیں مِرے کمرے میں اتر آئی تھیں

میں نے دیوار پہ کھڑکی کو اجارا دیا تھا

اس نے ویرانے میں آہٹ کی شجر کاری کی

اور جنگل کی خموشی کو سہارا دیا تھا

گاؤں والے مجھے درویش سمجھنے لگے تھے

میں نے سیلاب کی تیزی کو کنارا دیا تھے

اب یہ بکھراؤ مقدر ہے ہمارا مرے دوست

ہم نے بنیاد کو تخریب کا گارا دیا تھا

کاسۂ چشم میں خیرات کا منظر نہ رکا

دینے والے نے تو اک شوخ نظارا دیا تھا


منیر جعفری

No comments:

Post a Comment