بس ایک کام وہ اتنا فضول کرتا ہے
ہر ایک شخص کی چاہت قبول کرتا ہے
ہمیں وہ روک کے منزل کے آس پاس کہیں
ہماری محنتیں رستے میں دھول کرتا ہے
کبھی طویل ریاضت سے شعر کہتا ہوں
کبھی وہ پل میں برابر نزول کرتا ہے
بڑے بڑے جہاں اظہار کر نہیں پاتے
وہاں سکون سے چھوٹا سا پھول کرتا ہے
میں جب بھی آلِ محمدﷺ پہ شعر کہتا ہوں
خدا سے داد مِرا دل وصول کرتا ہے
ہر ایک شخص ترستا ہے دیکھنے کو تجھے
ہر ایک آدمی میری نقول کرتا ہے
اس ایک سنگ کو دیکھے تو دیکھنے والا
نہ چاہتے ہوئے چھوٹی سی بھول کرتا ہے
مِری دعا ہے کہ تجھ کو کبھی محبت ہو
تُو ہر مقام پہ آگے اصول کرتا ہے
ہے تیرے روبرو بیٹھے ہوئے کی مجبوری
جو بات تول کے کرنی ہو طُول کرتا ہے
ندیم راجہ
No comments:
Post a Comment