Saturday, 10 April 2021

بس ایک کام وہ اتنا فضول کرتا ہے

 بس ایک کام وہ اتنا فضول کرتا ہے

ہر ایک شخص کی چاہت قبول کرتا ہے

ہمیں وہ روک کے منزل کے آس پاس کہیں

ہماری محنتیں رستے میں دھول کرتا ہے

کبھی طویل ریاضت سے شعر کہتا ہوں

کبھی وہ پل میں برابر نزول کرتا ہے

بڑے بڑے جہاں اظہار کر نہیں پاتے

وہاں سکون سے چھوٹا سا پھول کرتا ہے

میں جب بھی آلِ محمدﷺ پہ شعر کہتا ہوں

خدا سے داد مِرا دل وصول کرتا ہے

ہر ایک شخص ترستا ہے دیکھنے کو تجھے

ہر ایک آدمی میری نقول کرتا ہے

اس ایک سنگ کو دیکھے تو دیکھنے والا

نہ چاہتے ہوئے چھوٹی سی بھول کرتا ہے

مِری دعا ہے کہ تجھ کو کبھی محبت ہو

تُو ہر مقام پہ آگے اصول کرتا ہے

ہے تیرے روبرو بیٹھے ہوئے کی مجبوری

جو بات تول کے کرنی ہو طُول کرتا ہے


ندیم راجہ

No comments:

Post a Comment