Thursday, 8 October 2020

دل کس کی چشم مست کا سرشار ہو گیا

دل کس کی چشمِ مست کا سرشار ہو گیا
کس کی نظر لگی، جو یہ بیمار ہو گیا
کچھ ہے خبر تجھے بھی کہ اٹھ اٹھ کے رات کو
عاشق تِری گلی میں کئی بار ہو گیا
بیٹھا تھا خضر آ کے مِرے پاس ایک دم
گھبرا کے اپنی زیست سے بیزار ہو گیا
چاکِ جگر تو سینکڑوں خاطر میں کچھ نہ تھے
دل کی تپش کے آگے میں ناچار ہو گیا
کھٹکی کبھی دلوں میں نہ تیری صدا جرس
نالہ مِرا تو چھوٹتے ہی پار ہو گیا
اے درد ہم سے یار ہے اب تو سلوک میں
خط زخمِ دل کو مرہمِ زنگار ہو گیا

خواجہ میر درد

No comments:

Post a Comment