Thursday, 8 October 2020

رات

 رات


مری دہلیز پر بیٹھی ہوئی زانوں پہ سر رکھے

یہ شب افسوس کرنے آئی ہے کہ میرے گھر پہ

آج ہی جو مر گیا ہے دن

وہ دن ہمزاد تھا اس کا

وہ آئی ہے کہ میرے گھر میں اس کو دفن کر کے

ایک دِیا دہلیز پر رکھ کر

نشانی چھوڑ دے کہ محو ہے یہ قبر

اس میں دوسرا آ کر نہیں لیٹے

میں شب کو کیسے بتلاؤں

بہت دن مرے آنگن میں یوں آدھے ادھورے سے

کفن اوڑھے پڑے ہیں کتنے سالوں سے

جنہیں میں آج تک دفنا نہیں پایا


گلزار

No comments:

Post a Comment