رات
مری دہلیز پر بیٹھی ہوئی زانوں پہ سر رکھے
یہ شب افسوس کرنے آئی ہے کہ میرے گھر پہ
آج ہی جو مر گیا ہے دن
وہ دن ہمزاد تھا اس کا
وہ آئی ہے کہ میرے گھر میں اس کو دفن کر کے
ایک دِیا دہلیز پر رکھ کر
نشانی چھوڑ دے کہ محو ہے یہ قبر
اس میں دوسرا آ کر نہیں لیٹے
میں شب کو کیسے بتلاؤں
بہت دن مرے آنگن میں یوں آدھے ادھورے سے
کفن اوڑھے پڑے ہیں کتنے سالوں سے
جنہیں میں آج تک دفنا نہیں پایا
گلزار
No comments:
Post a Comment