Thursday, 8 October 2020

جی میں آتا ہے کہ اس کان سے سوراخ کروں

 گھٹن


جی میں آتا ہے کہ اس کان سے سوراخ کروں

کھینچ کر دوسری جانب سے نکالوں اس کو

ساری کی ساری نچوڑوں یہ رگیں، صاف کروں

بھر دوں ریشم کی جلائی ہوئی بکی ان میں

قہقہاتی ہوئی اس بھیڑ میں شامل ہو کر

میں بھی اک بار ہنسوں، خوب ہنسوں، خوب ہنسوں


گلزار

No comments:

Post a Comment