Thursday, 8 October 2020

جان کی پرواہ پھر کس کو ہو جب قاتل ہو یاروں سا

 جان کی پرواہ پھر کس کو ہو، جب قاتل ہو یاروں سا

باتیں ہوں دلداروں جیسی، لہجہ ہو غم خواروں سا

کس نے کہا تھا برکھا رُت میں یوں بے دھیان انجان پھرو

بوند پڑے سے اور بھی جیسے، بھڑکے جسم انگاروں سا

آتے جاتے سارے موسم اس سے نسبت رکھتے ہیں

اس کا ہجر خزاؤں جیسا، اس کا قرب بہاروں سا

اب کے ہوائیں یوں چلتی ہیں جیسے دلوں پر تیر چلیں

اب کے گلابوں کا موسم بھی وار کرے تلواروں سا

برسوں بعد فراز کو دیکھا اس کا حال احوال نہ پوچھ

شعر وہی دل والوں جیسے، شغل وہی بنجاروں سا


احمد فراز

No comments:

Post a Comment