Thursday, 8 October 2020

جان دے کر وفا میں نام کیا

 جان دے کر وفا میں نام کیا

زندگی بھر میں ایک کام کیا

بے نقاب آ گیا سرِ محفل

یار نے آج قتلِ عام کیا

آسماں بھی اسے ستا نہ سکا

تُو نے جس دل کو شاد کام کیا

عشق بازی تھا کام رِندوں کا

تُو نے اس خاص شے کو عام کیا

اب کے یونہی گزر گئی برسات

ہم نے خالی نہ ایک جام کیا


صوفی تبسم

No comments:

Post a Comment