اسے ہر رخ سے توڑا جا رہا ہے
مگر آئینہ⌗ ہنستا جا رہا ہے
ہم اپنے آپ میں سورج ہیں پھر بھی
اندھیرا ہم میں ڈھونڈا جا رہا ہے
اسے ہم نے ذرا سا بھر دیا کیا
یہ ساغر🍷 تو چھلکتا جا رہا ہے
تیرے چہرے میں ایسا کیا ہے آخر
جسے برسوں سے دیکھا جا رہا ہے
جہاں تک مجھ سے مطلب ہے جہاں کو
وہیں تک مجھ کو پوچھا جا رہا ہے
زمانے پر بھروسہ کرنے والو
بھروسے کا زمانہ جا رہا ہے
نعیم ایسا نہ ہو رہ جائے تنہا
بہت آگے نکلتا جا رہا ہے
نعیم اختر
No comments:
Post a Comment