وہ آزمائیں مجھے ان کو آزماؤں میں
پھر آندھیوں کے لیے اک دِیا جلاؤں میں
پھر اپنی یاد کی پُروائیاں بھی قید کرے
وہ چاہتا ہے اگر اس کو بُھول جاؤں میں
اُداس آنکھوں کو سوغات دے کے اشکوں کی
یہ اُس نے خوب کہا ہے کہ مُسکراؤں میں
میاں! یہ زیست کی سچائیوں کے قصے ہیں
کوئی فسانہ نہیں ہے، جسے سناؤں میں
اسی کو کہتے ہیں معراج کیا محبت کی؟
وہ یاد آئے تو پھر خود کو بُھول جاؤں میں
جمالِ یار پہ غزلیں تو ہو چکی ہیں بہت
یہ سوچتا ہوں اُسے آئینہ دکھاؤں میں
مجاہد فراز
No comments:
Post a Comment