Tuesday, 6 July 2021

گناہوں کی نحوست نے وباؤں میں دھکیلا ہے

 گناہوں کی نحوست نے وباؤں میں دھکیلا ہے

جہاں کو اہلِ ظلمت نے وباؤں میں دھکیلا ہے

فحاشی کی نجاست نے عیاشی کی اجازت نے

شریعت سے بغاوت نے وباؤں میں دھکیلا ہے

نگاہوں کو کہا جائے گناہوں سے بچا جائے

نگاہوں کی خیانت نے وباؤں میں دھکیلا ہے

خدا سے جنگ جیسی ہے تباہی ہی تباہی ہے

اسی سُودی معیشت نے وباؤں میں دھکیلا ہے

زمینِ رب پہ نافذ ہو نظامِ رب تو خوشیاں ہوں

نظامِ غیر فطرت نے وباؤں میں دھکیلا ہے

بتاؤ، اہلِ مغرب کو تمہیں تو شوقِ لذت میں

یہ ہم جنسی کی عادت نے وباؤں میں دھکیلا ہے

زمینِ شام گویا اہلِ فارس سے کہے تم کو

مسلمانوں سے نفرت نے وباؤں میں دھکیلا ہے

میرا دعویٰ نہیں ہُدہُد مگر محسوس ہوتا ہے

ہمیں ترکِ تلاوت نے وباؤں میں دھکیلا ہے


ہدہد الہ آبادی

No comments:

Post a Comment