فلمی گیت
ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے
ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے
بچپن کے ہم ساتھی دونوں صدا رہے ہیں سات
ایک ہی سپنا دیکھیں جیسے دو آنکھیں دن رات
دنیا نے کہی سو بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے
مگر تیرا پیار نہیں بھولے
ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے
ہائے رے مجبوری دل کی بھید نہ دل نے کھولے
اپنے گھر کو جلتے دیکھا منہ سے کچھ نہ بولے
ہم جلتے رہے رے دن رات مگر تیرا پیار نہیں بھولے
کیا کیا ہوا دل کے سات، کیا کیا ہوا دل کے سات
مگر تیرا پیار نہیں بھولے
ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے
فیاض ہاشمی
No comments:
Post a Comment