Friday, 6 January 2017

کہیں دو دل جو مل جاتے تو بگڑتا کیا زمانے کا

فلمی گیت

کہیں دو دل جو مل جاتے تو بگڑتا کیا زمانے کا
خبر کیا تھی کہ یہ انجام ہو گا دل لگانے کا
کہیں دو دل جو مل جاتے ۔۔۔۔۔

دلِ بے تاب سے کہہ دو تڑپنے سے نہ گھبرائے
یہی تو وقت آیا ہے وفا کو آزمانے کا
کہیں دو دل جو مل جاتے تو بگڑتا کیا زمانے کا
کہیں دو دل جو مل جاتے ۔۔۔۔۔

کسی کو کیا سنائیں ہم پہ کیا گزری محبت میں
کہ بس آغاز ہی انجام ہے اپنے فسانے کا
کہیں دو دل جو مل جاتے تو بگڑتا کیا زمانے کا
کہیں دو دل جو مل جاتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جہان والوں نے ملتے ہی کیا ہے یوں جدا ہم کو
کہ جیسے خواب دیکھا تھا تمہیں اپنا بنانے کا
کہیں دو دل جو مل جاتے تو بگڑتا کیا زمانے کا
کہیں دو دل جو مل جاتے

کہیں دو دل جو مل جاتے تو بگڑتا کیا زمانے کا
خبر کیا تھی کہ یہ انجام ہو گا دل لگانے کا
کہیں دو دل جو مل جاتے ۔۔۔۔۔

فیاض ہاشمی

No comments:

Post a Comment