ٹوٹتے ٹوٹتے بنا ہوں میں
دردمندوں کا قہقہہ ہوں میں
اپنے بارے میں سوچنا میرا
تیرے بارے میں سوچتا ہوں میں
ہاں تجھے بھولنا نہیں ممکن
ہاں تجھے یاد کر رہا ہوں میں
مجھ میں اب ذائقے نہیں باقی
دل کا گلشن جلا چکا ہوں میں
میں نے آنکھوں کو سچ سکھایا تھا
اور اب سچ بھگت رہا ہوں میں
زندگی کا جگر تھا میں فرحان
دستِ برہم سے شق ہوا ہوں میں
فرحان عباس بابر
No comments:
Post a Comment