جس ساحل پر تم
مجھے روتا چھوڑ گئے تھے
میں آج بھی اس ساحل کی باسی ہوں
ساحلوں پر بستی ہوں
سیپیاں چنتی رہتی ہوں
ریت محل بُنتی ہوں
اور تمہارے لیے محل میں
سیپیاں سجاتی ہوں
دیکھو، سوچ نگر کے جزیرے سے
جلدی لوٹ آنا
کہ میں روز شام ڈھلے
ان لہروں میں کھوجتی رہتی ہوں
کہ تمہارے نام کی بند شیشے کی بوتل
تمہارا پیغام کب لائے گی؟
سنو
دیر مت کرنا جلدی لوٹ آنا
کہیں تمہارے آنے سے پہلے یہ چنچل لہریں
میرا یہ سیپ محل
بہا کر نہ لے جائیں
ہاشم ندیم سے منسوب
No comments:
Post a Comment