Tuesday, 20 July 2021

جس ساحل پر تم مجھے روتا چھوڑ گئے تھے

 جس ساحل پر تم

مجھے روتا چھوڑ گئے تھے

میں آج بھی اس ساحل کی باسی ہوں

ساحلوں پر بستی ہوں

سیپیاں چنتی رہتی ہوں

ریت محل بُنتی ہوں

اور تمہارے لیے محل میں 

سیپیاں سجاتی ہوں

دیکھو، سوچ نگر کے جزیرے سے

جلدی لوٹ آنا

کہ میں روز شام ڈھلے

ان لہروں میں کھوجتی رہتی ہوں

کہ تمہارے نام کی بند شیشے کی بوتل

تمہارا پیغام کب لائے گی؟

سنو

 دیر مت کرنا جلدی لوٹ آنا

کہیں تمہارے آنے سے پہلے یہ چنچل لہریں

میرا یہ سیپ محل

بہا کر نہ لے جائیں


ہاشم ندیم سے منسوب

No comments:

Post a Comment