Tuesday, 20 July 2021

جو تمہارے لب پہ ہے وہ بات بھی بے ساختہ

 جو تمہارے لب پہ ہے وہ بات بھی بے ساختہ

ہات میں جو آ گیا، وہ ہات بھی بے ساختہ

اس ہوا نے جانے کیا سرگوشی کی ہے جھوم کر

ناچ اٹھا ہر شجر، ہر پات بھی بے ساختہ

یہ قبیلے اور نسل کے بندھنوں سے بے خبر

عشق تو اک ذات ہے اور ذات بھی بے ساختہ

اک ذرا سی بدگمانی بھی جو آئے درمیاں

آنکھوں سے ہو اشکوں کی برسات بھی بے ساختہ

تحفوں سے کب کم ہے یہ اہلِ وفا کے واسطے

دلبروں کے ظلم کی سوغات بھی بے ساختہ

جان لیتی ہیں دلوں کے راز آنکھیں دیکھیے

راحتِ دل کو مگر ہے مات بھی بے ساختہ

آفتابِ عشق سے یوں بِکھری ہرسو روشنی

چیخ اُٹھے درد سے ذرات بھی بے ساختہ

قلبِ خانم سے نکلتی ہے دعا یہ بارہا

اے خدا ہو سات اس کا، سات بھی بے ساختہ


فریدہ خانم

No comments:

Post a Comment