Wednesday, 13 January 2021

تیرا عشق ہے زہے نصیب

 عشق زہے نصیب


تیرا ہجر ہے یا میرا رقیب

میں پاس ہوں، تُو نہیں قریب

ہوئے یار دشمن، نہ کوئی حبیب

تیرا عشق ہے، زہے نصیب

میرا ہجر ہے، زہے نصیب


مجھےجوگ دے، مجھے روگ دے

یہ خوشی پکڑ، مجھے سوگ دے

مرشد ہے تُو، میں تیرا مرید

تیرا عشق ہے، زہے نصیب

میرا ہجر ہے، زہے نصیب


میں تباہ ہوا، میں فنا ہوا

میرا روم روم جل سؤا ہوا

ہو تڑپ میری کچھ اور شدید

تیرا عشق ہے، زہے نصیب

میرا ہجر ہے، زہے نصیب


میری نسوں میں زہر بھرا ہے

تیری جدائی میں قہر پڑا ہے

میں مریض ہوں، تُو میرا طبیب

تیرا عشق ہے، زہے نصیب

میرا ہجر ہے، زہے نصیب


کوئی درد ہو، کوئی میر ہو

نہ کوئی مجھ سا فقیر ہو

میں غلام ہوں آ مجھے خرید

تیرا عشق ہے، زہے نصیب

میرا ہجر ہے، زہے نصیب


ہاشم ندیم

No comments:

Post a Comment