اس بزم میں میرا کوئی دمساز نہیں ہے
شاہیں ہوں مگر طاقت پرواز نہیں ہے
اے ذوق طلب مجھ کو تری داد کا شکوہ
مانا کہ ابھی تو مِرا ہمراز نہیں ہے
تکمیل طلب ہے ابھی الفت کا فسانہ
شوخی نہیں وحشت نہیں انداز نہیں ہے
جنت سے چلی آئے اگر حور تو بیکار
وہ ناز نہیں اس میں وہ انداز نہیں ہے
ہنگامۂ ہستی میں ہوں ارمان میں مجبور
یہ تیری صدا ہے مِری آواز نہیں ہے
ارمان رامپوری
شیام سندر سنگھ
No comments:
Post a Comment