Thursday, 1 January 2026

اس بزم میں میرا کوئی دمساز نہیں ہے

 اس بزم میں میرا کوئی دمساز نہیں ہے

شاہیں ہوں مگر طاقت پرواز نہیں ہے

اے ذوق طلب مجھ کو تری داد کا شکوہ

مانا کہ ابھی تو مِرا ہمراز نہیں ہے

تکمیل طلب ہے ابھی الفت کا فسانہ

شوخی نہیں وحشت نہیں انداز نہیں ہے

جنت سے چلی آئے اگر حور تو بیکار

وہ ناز نہیں اس میں وہ انداز نہیں ہے

ہنگامۂ ہستی میں ہوں ارمان میں مجبور

یہ تیری صدا ہے مِری آواز نہیں ہے


ارمان رامپوری

شیام سندر سنگھ

No comments:

Post a Comment