Thursday, 1 January 2026

نہیں ہیں دیر و حرم صاحب نظر کے لیے

 نہیں ہیں دَیر و حرم صاحب نظر کے لیے

مچل رہی ہے جبیں تیرے سنگِ در کے لیے

ہمارے پاؤں کے بوسے لیے ستاروں نے

تمہاری راہ میں نکلے جو ہم سفر کے لیے

یہ کیسی انجمنِ ناز ہے کہ دیوانے

ترس رہے ہیں قرارِ دل و نظر کے لیے

صبا یہ کوچۂ جاناں میں جا کے کہہ دینا

ذرا سی خاک ملے سرمۂ نظر کے لیے

کسی کا سوزِ محبت فزوں رہے یا رب

یہ اک چراغ ہی کافی ہے اپنے گھر کے لیے

خوشا نصیب کہ وقف جنوں ہوا رفعت

نہیں ہے سر مِرا اے دوست در بدر کے لیے


رفعت الحسینی

No comments:

Post a Comment