زمین زادوں کے لب پر جلے فغاں کے چراغ
تو ہم نے ٹوٹتے دیکھے ہیں آسماں کے چراغ
ہمیں تو عشقِ مسلسل نے روشنی بخشی
عبث دکھاتے ہو ہم کو یہاں وہاں کے چراغ
حکایتوں کی روایت کے پاسباں ہم ہیں
حسد کی آگ لیے ارد گرد پھرتے ہو
یقیں کا نور تو بنتے نہیں گماں کے چراغ
فقیر لوگ تو سینوں میں نور بھرتے ہیں
تم آ گئے ہو بجھانے یہ آستاں کے چراغ
نقب زنوں کو پہنچنا تھا شام سے پہلے
چرا کے شہر میں لائے ہیں کارواں کے چراغ
یہ دل کی آنکھ دکھائے گی حسن ہے منظرؔ
یہ آئینہ تو دکھائے ستارگاں کے چراغ
منظر نقوی
No comments:
Post a Comment