Tuesday, 8 November 2016

زمین زادوں کے لب پر جلے فغاں کے چراغ

زمین زادوں کے لب پر جلے فغاں کے چراغ
تو ہم نے ٹوٹتے دیکھے ہیں آسماں کے چراغ
ہمیں تو عشقِ مسلسل نے روشنی بخشی
عبث دکھاتے ہو ہم کو یہاں وہاں کے چراغ
حکایتوں کی روایت کے پاسباں ہم ہیں
ہماری فکر میں روشن ہیں رفتگاں کے چراغ
حسد کی آگ لیے ارد گرد پھرتے ہو
یقیں کا نور تو بنتے نہیں گماں کے چراغ
فقیر لوگ تو سینوں میں نور بھرتے ہیں
تم آ گئے ہو بجھانے یہ آستاں کے چراغ
نقب زنوں کو پہنچنا تھا شام سے پہلے
چرا کے شہر میں لائے ہیں کارواں کے چراغ
یہ دل کی آنکھ دکھائے گی حسن ہے منظرؔ
یہ آئینہ تو دکھائے ستارگاں کے چراغ

منظر نقوی

No comments:

Post a Comment