Tuesday, 8 November 2016

کسی کے بعد کسی اور کی کمی نہ رہے

کسی کے بعد کسی اور کی کمی نہ رہے
شرابِ ہجر پئیں، اور تشنگی نہ رہے
وه چاند چھت پہ اتر آئے وقت سے پہلے 
یہ زرد شام بھی دیوار پر ٹکی نہ رہے
زمین زادوں کے بس دل رہیں ٹھکانوں پر
قیامت آئے تو امکانِ ابتری نہ رہے
میں رازدار سہیلی بس اپنے آپ کی تھی
سو چاہتی تھی اکیلے میں خامشی نہ رہے
خرد کے وہم میں کیا کچھ نہ کہہ گئی دنیا 
جنون اتنا کہ انسان آدمی نہ رہے
سراب چہرے عجب روشنی کے سائے تھے
سو آئینے بھی رہے اور عکس بھی نہ رہے
تمہاری بات کا مطلب تمہیں کو ہو معلوم
ہمیں تو یاد ہے پھر ہم کہیں کے بھی نہ رہے
یہ اور بات کہ اوروں نے بارہا دیکھا
تمہارے شہر میں دانستہ ہم کبھی نہ رہے
ابھی تو بولنے دو، پھر کسے پتا سیماؔ
ذرا سی دیر جو دیوانگی رہی، نہ رہے

سیما نقوی

No comments:

Post a Comment